Scilab
قارئین کو سائیلیب کا ذائقہ دینے کے لیے ہم اس میں کمپوٹنگ کے ابتدائی گُر بتاتے ہیں۔ سائیلیب میں متغیر کو پہلے سے متعین کرنا ضروری نہیں ہوتا، اور نہ ہی اس کی قسم بتانا ہوتا ہے۔ مثلاً


--> a = 2 * %pi  
a= 
6.28318 
--> a = a + 10; 
--> a 
a = 
16.28318 

اگر سطر کے بعد ; نہ لگایا جائے، تو جواب خود بخود دکھائی دیتا ہے۔ وگرنہ آپ متغیر کا نام دے کر اس کی قیمت معلوم کر سکتے ہو۔ سائیلیب میں اعداد کو میٹرکس کی شکل میں لکھا جاتا ہے۔ قطاروں کو ; سے علاحدہ کیا جاتا ہے۔ مثلاً ہم تین قطاروں اور چار ستونوں کی میٹرکس لکھتے ہیں:


--> C = [  0    11    -2    1   ; 1   12    -3   0   ; -1    10    3    7  ]  ; 
--> C 

اس میٹرکس کو دو نکتہ اوزار..، جو جاری رکھنے کے معٰنی میں استعمال ہوتا ہے، کے ذریعہ بھی لکھا جا سکتا تھا:

--> C = [0    11   -2    1     .. 
-->          1    12    -3   0    .. 
-->         -1    10   3   7  ]   ; 

عام طور پر ریاضی میں میٹرکس کی قطاروں اور ستونوں کا شمار صفر (0) سے شروع کرتے ہیں، مگر سائیلیب میں یہ شمار ایک (1) سے شروع ہوتا ہے۔ میٹرکس کے کسی جُز کو اس کے قطار اور ستون کے ذریعہ مخاطب کیا جا سکتا ہے، جیسے:

--> C(2,3) 
ans =
-3.  
--> C(2,3)=100 
C = 
 

میٹرکس کا سائیز دیکھنے کے لیے یوں کرتے ہیں (یہاں میٹرکس C کا سائیز ہے):

--> size(C) 
ans = 
3.    4. 
-->  length(C) 
ans =
12. 

میٹرکس کی لمبائی length() ستونوں کے رُخ ناپی جاتی ہے۔ اس لحاظ سے 100 میٹرکس C کا آٹھواں جُز ہے:

--> find(C==100)  
ans = 
8.  
--> find(C==1) 
ans =
2.    10. 

کولن : کا اوزار، دو اعداد کے حدود میں اعداد پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے:

--> 1:7 
ans=
 
--> 7:-1:1 
ans=

--> 0:2:8 
ans=
 

اس لیے میٹرکس C کے دوسرے ستون کو : اوزار کے استعمال سے یوں مخاطب کریں گے:

-->// دوسرے ستون کو مخاطب  
--> C(:,2) 
ans = 
 
-->// دوسری قطار کو مخاطب  
--> C(2,:) 
ans = 
 

میٹرکس کا رخ بدلنے کو transpose کہتے ہیں، یعنی ستونوں اور قطاروں کا باہمی تبادلہ۔ اس کے لیے ' کا اوزار ہے۔

--> B = [1:3;  4:6] 
B = 
 
--> B' 
ans = 

سائیلیب کی سکرپٹنگ زبان میں آسانی سے پروگرام لکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً اگر ہمیں ایک سے لے کر دس تک نمبروں کا مربع لے کر ان سب کو جمع کرنا ہے تو یوں سکرپٹ لکھا جا سکتا ہے:

--> v = [1:10] ;  
--> s = 0 ; 
--> for k=1:10 
--> s = s + v(k) * v(k) ;    
--> end  
--> s 
s = 
385 

یہ سکرپٹ عام پروگرامنگ زبانوں کی طرح ہے۔ مگر میٹرکس کی زبان میں اس کے زیادہ آسان طریقے ہیں، جو سائیلیب میں فوقیت پاتے ہیں۔ دیکھو:

--> v=[1:10] ;  
--> v2 = v .^ 2 ;  
v2 = 
 
--> sum(v2) 
ans = 
385 

اوپر مربع کے اوزار ^ سے پہلے ڈاٹ . ڈالنے سے مراد ہے کہ میٹرکس کے ہر عنصر کا علاحدہ علاحدہ مربع نکالا جائے۔ اس سے بھی آسان طریقہ "میٹرکس ضرب" کے ذریعہ ہے:

--> v=[1:10] ;  
--> v 
ans =

--> v' 
ans = 

--> v * v' 
ans = 
385 

عام طور پر کسی بھی اوزار سے پہلے ڈاٹ ڈالنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ میٹرکس کے ہر عنصر پر علاحدہ علاحدہ عمل کیا جائے۔ مثلاً، نیچے پہلی ضرب میٹرکس کے ہر عنصر کی اپنے ہم منصب عنصر سے ضرب ہے۔ جبکہ دوسری صورت "میٹرکس ضرب" ہے:


سائیلیب اعداد کو مختلط (کمپلکس) تصور کرتی ہے۔ مختلط نمبر یوں لکھتے ہیں:

--> x = 7 + 5 * %i  
x = 
7 + 5.i 
--> sqrt(-64) 
ans = 
   8.i  

اب ہم ایک سائین (sine) لہر کا ایک وقفہ بناتے ہیں، اور اس کو پلاٹ کرتے ہیں۔ اس کے بعد اس لہر کا "جزر اوسط مربع" نکالتے ہیں:

--> t=[0: .001: 1] ;  
--> x = sin(2 * %pi  .* t) ;  
--> plot(t, x) ; 
--> sqrt( x * x' / length(x) ) 
ans = 
0.7067535 

مفید کلیہ کو فنکشن کی صورت لکھا جا سکتا ہے، جسے بعد میں بآسانی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ مثلاً مستطیل منشور (rectangular prism) کی چھ سطحوں کا رقبہ یوں تعریف کیا جا سکتا ہے:

--> function y=surfaceArea(a,b,c)
--> y=2*(a*b+a*c+b*c);
--> endfunction

اور اسے ایسے استعمال کیا جا سکتا ہے (مستطیل منشور جسی کی لمبائی، چوڑائ، اور گہرائ، 3، 4، اور 5 ہے کی تمام سطحوں کا رقبہ 94 ہو گا):

--> S=surfaceArea(3, 4, 5)
--> S = 
--> 94.

کسی موضوع پر مدد درکار ہو تو

--> help

مدد کا براؤزر کھل جائے گا۔