صفحہ 5 - اباجان کے ہاں ( از سید تفسیراحمد)

صفحہ 4 ►◄ اباجان کے ہاں ►◄ صفحہ 6


"ان سوالوں کو پوچھنے سے سُقراط یہ نہیں جانناچاہتا تھا

کہ تقویٰ کِن اجزا سے مل کر بنا ہے؟

یا جرات، انصاف، تقدس ، اعتدال اور اچھائ کی خصوصیات مل کر تقویٰ بناتی ہیں؟

یا تقویٰ میں ان اجزا کی مقدار برابرہے؟

سُقراط کا مقصد تو دنیاکو یہ بتانا تھا کہ بشر ہی دنیا کو صحیح عمر اور صحیح سوچ سے بہتر بناسکتاہے”۔ اباجان بولے۔

سانیہ نے بھی گفتگو میں حصہ لیا۔” لیکن یہ تو الٹی بات ہوئ۔ جسے عمران بھائ نے پیرڈاکس کا نام دیا کہ علم انسانیت تقویٰ ہے۔

میرا خیال میں تو تقو یٰ ایک قوت ہے جس کا عمل، نتیجہ اور اثر ہوتا ہے”۔

" مثال کے طور پر پودے یا دوا کا تقویٰ شفا دینا ہے۔ میرے حساب سے تو تقویٰ اپنے عمل سے علیحدہ ہے چاقو، ایک قاتل کے ہاتھ میں اُتنا ہی تقویٰ رکھتا ہے جتنا باورچی کے ہاتھ میں اور ایک پودا جو شفا دیتا ہے اتنا ہی تقویٰ رکھتا ہے جتناکہ ایک زہری پودا”۔

اباجان نے مسکرا کر کہا میری بیٹی نے ٹھیک کہا۔ سب سے اچھا چاقو وہی ہوگا جو سب سے بہتر کاٹے۔لیکن کیا سانیہ کی سوچ میں مناسب قدر شامل ہے؟

سانیہ نے پوچھا۔ چاقو کا کام توصرف کاٹنا ہے تو اسکا تقویٰ ، خاصیت اور پیمانہ پر منصر ہے۔ لیکن انسان کواپنے عمل کے نتیجہ کا بھی فیصلہ کرنا ہے۔ارسطو کا کہنا تھا کہ یہ خاصیت انسان کو حیوان سے علاحدہ کرتی ہے۔اس لیے انسان کو حیوان ناطق یا آدم زاد بھی کہتے ہیں۔

اباجان نے کہا لیکن ناطق ہونے کے لیے صرف سوچ بچار بلکہ خواہش، تعلیم، عادت، فکر اور دوسرے اجزا کی ضرورت ہے تمام بھی ضرورت ہے۔ تقویٰ نہ صرف تاریخی ہیں بلکہ اچھائ ہیں۔اور ایک نیک اور درست انسان میں انسانیت اور تقویٰ یکجا ہوجاتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اسکا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو انسان کہنے کے لیے آدمی کے پاس نہ صرف تقویٰ ہو بلکہ وہ اس تقویٰ کی اخلاقی استعمال کی ذمہ دار ی بھی لے ۔ایسا کرنے سے انسان ، انسانیت کی تکمیل پر پہنچے گا۔

" اس لیے تقویٰ علم حیات اور تہذیب کی نشوونما کا ملن ہے۔ تقویٰ، انسان کو انسانیت سیکھاتاہے”۔

سمل بولی”۔ اسلام بھی تو ہمیں پرہیزگاری اور اچھائیاں دیتا ہے”۔

اباجان نے اپنا سر اسطرح ہلایا جسے انکو اس سوال کا انتظار تھا۔ تم نے “ایووروئیز“ کا نام سنا ہے؟ ہم سب نے یکجا ہو کر کہا۔کس کا؟

اباجان نے مُسکرا کر کہا۔ دہ شخص جو کہ سائنس کا شہزادہ ، علم فقہ ، ریاضی، طب اور فلسفہ کا ماہرتھا۔ہم سب نے یکجا ہو کر کہا۔کون؟

عبدوالولید محمد ابن رشد، بارویں صدی کا مسلم فلاسفر تھا ۔ جس کی کتابوں تخلیص ، جَامی ، تفسیر نے ازمینہ وسطیٰ یورپ کی جدید ترقیوں کے ابتدا کے بیج بوۓ۔ ابن رشد نے ٣٨ کتابیں فلسفہ پر لکھیں۔ بہت سی کتابیں علم ہیئیت ، علم موسیقی، علم شاعری اورعلم انشاء پر لکھیں۔اس کے علاوہ 8 جلدوں کا مجمع العلوم انسا ئیکلوپیڈیا، جس میں علم تشریع، تشخیص مرض ،علم الادویہ ، علم الامراض ، علم عضویات ، عملی اور دفاع مرض کو مفصل بیان کیا۔ اسکا ترجمہ اطالوی زبان میں ہوا۔ دنیا مسلم میں ابن رشد تَہَفُت التَہَفُت ، الفلسفہ اور مابادی الفلسفہ ، ان دو کتابوں کی وجہ سے مشہور ہے۔


صفحہ 4 ►◄ اباجان کے ہاں ►◄ صفحہ 6